ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ضلع شمالی کینرا میں قابو میں آگئی کورونا وائرس وباء! منفی نکلی مشتبہ مریضوں کی جانچ رپورٹ؛بھٹکل کے 60 لوگوں کی رپورٹ آئی نیگیٹیو

ضلع شمالی کینرا میں قابو میں آگئی کورونا وائرس وباء! منفی نکلی مشتبہ مریضوں کی جانچ رپورٹ؛بھٹکل کے 60 لوگوں کی رپورٹ آئی نیگیٹیو

Sat, 04 Apr 2020 00:26:24    S.O. News Service

بھٹکل 3/اپریل (ایس او نیوز) دنیا کے کئی ممالک کے ساتھ ہندوستان میں بھی پھیلی ہوئی کوروناوائرس کی وباء چاہے ملک کے دوسرے مقامات پر ابھی پوری طرح قابو میں نہیں آئی ہو، لیکن ایسا لگتا ہے کہ ضلع شمالی کینرا میں اس پر قابو پانے میں بڑی حد تک کامیابی مل رہی ہے۔اور اس سے ضلع کے عوام کو راحت کی سانس لینے کا موقع مل گیا ہے۔

 بھٹکل ’کوروناہاٹ اسپاٹ‘:    ضلع میں بیرون ممالک سے سب سے زیادہ لوگ بھٹکل پہنچے تھے اور یہاں پر کووڈ 19مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد ایک تشویش کی بات بن گئی تھی۔جن مریضوں کی جانچ رپورٹ پوزیٹیو آئی تھی ان کے اطراف میں مقیم لوگوں کے لئے مسئلہ اور زیادہ تشویشناک ہوگیا تھا۔ اور یہ بات ضلع انتظامیہ اور ریاستی حکومت کے لئے بھی دردِ سر بن گئی تھی۔اسی وجہ سے بھٹکل میں ’ہیلتھ ایمرجنسی‘ کا اعلان کیاگیا تھا۔مرکزی حکومت نے اس علاقے کو ’کورونا ہاٹ اسپاٹ‘ اور ریاستی حکومت نے ’ریڈ ژون‘ کے زمرے میں رکھا تھا۔لیکن گزشتہ دو دنوں میں پورے ضلع میں کورونا سے متاثر ہونے کا ایک معاملہ بھی سامنے نہیں آیا ہے۔ اور بیرونی ممالک سے بھٹکل آنے والے اور متاثرہ افراد کے رابطے میں رہنے والے جن لوگوں کے گلے سے تھوک کے نمونے لیباریٹری میں جانچ کے لئے بھیجے گئے تھے، ان کی رپورٹ منفی (نگیٹیو) موصول ہوئی ہے۔ یہ عوام اور ضلع انتظامیہ کے لئے ایک بڑی راحت کی بات ہے۔

تمام رپورٹ نیگیٹیو:    ضلع شمالی کینرا کے ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر ہریش کمار نے بتایا کہ ضلع اُترکنڑا  سے کُل 103افراد کے نمونے جانچ کے لئے روانہ کیے گئے تھے۔ اس میں کاروار سے 9، کمٹہ سے6، ہوناور سے 1، بھٹکل سے 71،سرسی سے3،یلاپور سے 3، ہلیال سے9اور جوئیڈا سے 1 شخص کا نمونہ جانچ کے لئے بھیجا گیا تھا۔ان میں سے 8 افراد کی رپورٹ پوزیٹیو آئی جو تمام کے تمام بھٹکل کے تھے، 7 افراد کے نمونوں کی جانچ مسترد کردی گئی  جس میں بھٹکل کے تین افراد بھی شامل ہیں۔ جبکہ بقیہ85 لوگوں کی رپورٹ منفی آئی ہے۔ جس میں بھٹکل کے 60افراد بھی شامل ہیں  ۔  ڈپٹی کمشنر نے مزید بتایا کہ جو 8 مریض فی الحال کاروار کے پتنجلی  اسپتال میں زیر علاج ہیں ان کی صحت بھی بہتر ہوتی جارہی ہے۔انہوں  نے خیال ظاہر کیا  کہ وہ لوگ چند دنوں کے اندر پوری طرح صحت یاب ہوجائیں گے۔

 طبی نگرانی کی جارہی ہے:    سرکاری اعداد وشمار کے مطابق ضلع شمالی کینرا میں اس وقت 1,422افراد کی طبی نقطہ نگاہ سے نگرانی کی جارہی ہے۔ ان میں سے 258 لوگوں نے 14دنوں تک گھروں کے اندر کورنٹائن رہنے کا عرصہ مکمل کرلیا ہے۔697افراد 14سے 28دنوں کے ہوم کورنٹائن میں رکھے گئے ہیں۔چونکہ467افرادنے28دن تک الگ تھلگ رہنے کی میعاد مکمل کرلی ہے اس لئے ان کی طبی نگرانی نہیں کی جارہی ہے۔

ضلع انتظامیہ کی قابل ستائش کارکردگی:    ملک بھر میں لاک ڈاؤ ن کے ساتھ بھٹکل میں بیرونی ممالک سے لوٹنے والوں اور متاثرہ افراد کی تعداد کو دیکھتے ہوئے ضلع انتظامیہ نے جو مستعدی دکھائی اور دفعہ 144کا نفاذ، لاک ڈاؤن اور پھر ہیلتھ ایمرجنسی کا اعلان کرنے سے سخت اقدامات کیے، یقینااس کا بہتر نتیجہ نکلا ہے اور اس وباء پر قابو پانے میں بڑی مدد ملی ہے۔ضلع اسپتال کے علاوہ تعلقہ اسپتالوں میں کورونا کے خصوصی وارڈ قائم کیے گئے تھے جس سے طبی امداد کی فراہمی آسان ہوگئی۔ امتناعی احکامات نافذ کرنے سے بلاوجہ گھروں سے باہر نکلنے والوں پر پابندی لگ گئی، جس سے وائرس کے مزید پھیلنے پر روک لگ گئی۔ اس دوران لوگوں کو ان کی بنیادی ضرورت کی چیزیں گھروں تک پہنچانے اور گھر کے دروازے تک طبی سہولتیں فراہم کرنے کا انتظام، پورے ضلع میں لوگوں کی صحت کا سروے کے علاوہ مختلف مقامات پر ہیلپ ڈیسک قائم کرکے شعبہ جاتی نوڈل افسران کا تقرر کرنے جیسے اقدامات کرتے ہوئے ضلع انتظامیہ نے قابل ستائش کارکردگی کا مظاہرہ کیاہے۔

 تنظیم اور یوتھ فیڈریشن قابل مبارکباد:     ایک طرف جہاں سرکاری سطح پر مستعدی دکھائی جارہی تھی، وہیں پر بھٹکل تعلقہ کی پیچیدہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے مجلس اصلاح و تنظیم اور بھٹکل مسلم یوتھ فیڈریشن نے اس وباء پر قابو پانے کے لئے جو جان توڑ کوشش اور محنت کی ہے، وہ بھی قابل مبارکبا دہے۔ تنظیم اور فیڈریشن کے ذمہ داروں کی طرف سے سرکاری اور طبی عملے کے ساتھ بھرپور تال میل اور تعاون کا بے مثال مظاہرہ کیاگیا۔ مریضوں اور متاثرین کی راحت رسانی کے ساتھ شہر میں لا ک ڈاون کی وجہ سے گھروں میں پھنسے ہوئے ہزاروں لوگوں کی بنیادی ضروریات فراہم کرنے کے انتظامات کے علاوہ حاجت مندوں اور مستحقین کی ضروریات پوری کرنے کی بھی قابل قدر کوشش کی گئی۔ بیرون ہند مقیم قوم و ملت کے فکر مند نوجوان، قائدین اور جماعتوں نے بھی تنظیم کی پوری پشت پناہی کی۔ اس کے علاوہ شہر کے قاضی صاحبان اور علمائے کرام نے عوام کو گھروں سے باہر نکلنے سے روکنے اور اس وبائی مرض پر قابو پانے کے لئے سرکاری محکمہ جات کا تعاون کرنے کے لئے آمادہ کرنے میں بڑا اہم کردار کیا ۔

 حالانکہ کوروناوائرس کی وباء پر قابو پانے میں ابھی پوری طرح کامیابی نہیں ملی ہے، لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آدھی جنگ جیت لی گئی ہے، اور اسی طرح  آگے بھی قانون  کی اسی طرح  پابندی کی جائے گی تو بقیہ جنگ بھی ان شاء اللہجیتنا ممکن ہوسکے گا۔  اس لئے اس میدان میں اپنا اپنا کردار ادا کرنے والوں کی ستائش کرنے کا حق تو بنتا ہی ہے۔ اللہ کرے کہ اگلا مرحلہ بھی آسانی کے ساتھ طے ہوجائے اور بھٹکل کے ساتھ ساتھ پورے ملک اور پورے عالم سے اس وبا ء کا خاتمہ ہوجائے۔


Share: